ابنا: ایرانی سفیر ماشاءاللہ شاکری نے کہا ہے کہ پاکستان کے صدر اور وزیراعظم چین کے دوروں پر تو بارہا جاتے ہیں، لیکن افسوس کہ پاک ایران بجلی اور گیس منصوبوں کے لیے پاکستانی حکام میں سے کسی کے پاس وقت نہیں۔ اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال بجلی کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں بھی شک نہیں ہے کہ ایران کے علاوہ کوئی ہمسایہ ملک پاکستان کو بجلی نہیں دے سکتا، لیکن ایرانی کمپنیوں کی جانب سے شروع کیے جانے والے بجلی اور گیس کے منصوبوں کے بارے میں پاکستانی بینک اور حکام تعاون اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر ماشاءاللہ شاکری نے کہا ہے کہ ایران نے پاکستان کو گیس اور بجلی کی فراہمی کیلئے تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں، تاہم پاکستانی حکام کی غیرسنجیدگی کے باعث پاکستان کو گیس اور بجلی کی فراہمی کے معاہدوں پر عملدرآمد میں تاخیر ہو رہی ہے۔ پاکستان کے ساتھ تجارت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے میں انتہائی سنجیدہ ہیں لیکن پاکستانی قیادت کی عدم دلچسپی سمجھنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیشکش کو 3 گنا بڑھا سکتے ہیں، پاکستان کو خام تیل ادھار دینے پر تیار ہیں، ڈیموں کی تعمیر میں بھی مدد دے سکتے ہیں، پاکستانی قیادت چین جاتی ہے لیکن ایران کیوں نہیں آتی۔ پاکستان میں سلامتی کی صورتحال پر ایران کو بھی تشویش ہے۔ ایران کے علاوہ کوئی ہمسایہ ملک پاکستان کو بجلی فراہم نہیں کر سکتا، پاکستان کی امداد کرنے کی بجائے اسے اپنے پاﺅں پر کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں، پاکستان کے ہر گھر میں بھارت کی فلمیں دیکھی جاتی ہیں، لیکن علامہ اقبال پر ڈاکیومنٹری بنانے کیلئے کوئی تیار نہیں ہے۔ گذشتہ روز انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹیڈیز کے زیراہتمام پاک ایران تعلقات کے حوالے سے منعقدہ سیمنیار سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام اور ترقی کیلئے پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط تعلقات اور موثر تعاون ضروری ہے۔ ............./169
ہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز